پورنیہ،22/فروری(ایس او نیوز/ایجنسی) مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے-
بہار کے پورنیہ میں انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ1947 میں ہی سبھی مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا- ایسا نہیں کر کے ہمارے آبا ؤ اجداد نے بڑی غلطی کی- انھوں نے مزید کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے نام پر ہندوستان مخالف ایجنڈا چلایا جا رہا ہے- سی اے اے پر جو زبان پاکستان بولتا ہے، وہی اپوزیشن کے لوگ بھی بول رہے ہیں -
گری راج سنگھ نے آزادی اور تقسیم ہند کی بات کرتے ہوئے کہا کہ 1947کے پہلے ہمارے آبا و اجداد آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے اور جناح ملک کو اسلامک اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے - اس وقت ہمارے بڑوں سے بہت بڑی بھول ہوئی- اگراسی وقت مسلمان بھائیوں کو وہاں (پاکستان) بھیج دیا جاتا اور ہندوؤں کو یہاں بلا لیا جاتا تو آج یہ نوبت ہی نہیں آتی-
انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک طالب علم کہتا ہے کہ جو ہماری قوم سے ٹکرایا ہے وہ برباد ہوا ہے- میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں بھی جو ہم سے ٹکرائے گا، برباد ہو جائے گا- گری راج سنگھ نے آگے کہا کہ بھارت تیرے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے کے نعرے لگتے ہیں - اس لیے آج وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو ملک کے تئیں وفادار اور خودسپرد ہونا ہوگا-
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی گری راج سنگھ کئی بار متنازعہ بیان دے چکے ہیں - سہارنپور میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ دیوبند دہشت گرد کی گنگوتری ہے- دنیا میں جو بھی دہشت گرد پیدا ہوئے، چاہے حافظ سعید کا معاملہ ہو، یہ سارے لوگ یہیں سے نکلتے ہیں - یہ سی اے اے کے خلاف میں نہیں ہیں، یہ ہندوستان کے خلاف ہیں - ایک طرح سے یہ خلافت تحریک ہے-